Song of the New Life/ur
De Simple Silence.
نیٓ زندگی كا ترانہ
سنو مہر بابا كی خاموش بانی
اسی ميں ہے سب عاشقوں كی كہانی
ہے جينا تمھيں گر ن٘ٓیٓ زندگانی
كرو ترق دل سے يہ دنيا فانی
خدا كے بھروسے پے ہم جا رہے ہيں
قسم سے ارادوں كو گرما رہے ہيں
غزل نامرادی كی ہم گا رہے ہيں
بلا اور مصيبت كو بلوا رہے ہيں
عمّيدوں كا رونا نہ وادوں كا شكوہ
نہ عزّت سے مطلب نہ زلّت كی پروہ
نہ غيبت كسی كی نہ خطرہ كسی كا
يہی رنگ ہے اپنی اب زندگی كا
